Monday, February 17, 2020

دمہ کیا ہے، اور یہ کیوں ہوتا ہے۔ تفصیل جانئے۔۔۔







ہر سال موسم بہار میں دنیا بھرمیں لاکھوں افراد دمہ 
کاشکارہوتےہیں۔ 
یہ وہ وقت ہے جب پھول کھلتے ہیں اور گھاس
 کاٹ دی جاتی ہے۔
دمہ ایک ایسی بیماری ہے جو سانس لینے کے 
راستوں کو تنگ کرتی ہے۔
 نتیجے کے طور پر ،  زیادہ ہوا آپ کے
 پھیپھڑوں 
میں داخل نہیں ہوسکتی ہے۔ عالمی ادارہ 
صحت کے مطابق دنیا بھر میں
 230 ملین سے زیادہ افراد دمہ کا شکار ہیں۔ 
بچوں میں یہ سب سے طویل مرض ہے۔ 
جبکہ دمہ تقریبا تمام ممالک میں
 پایا جاتا ہے ، دمہ سے متعلق اموات بنیادی طور
 پر تیسری دنیا کے غریب ترین ممالک 
میں ہوتی ہیں۔
امریکہ میں ہر سال 25 ملین سے زیادہ 
افراد اور 7 ملین بچوں میں 
دمہ ہوتا ہے۔ یہ بیماری افریقی امریکیوں
 میں زیادہ عام
 ہے۔ اس گروہ میں اموات کی شرح گوروں
 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے  خبردار  کیا ہے کہ ہر 
دس سال بعد دمہ کی شرح میں
 50٪ اضافہ ہو رہا ہے۔ دمہ  سے کاروبار
 کو بھی 
نقصان ہوتا ہے اور معیشت کو بھی نقصان 
پہنچاتا ہے کیونکہ بہت سے
 لوگ بیمار ہونے پر گھر میں ہی 
 پڑے رہتے ہیں۔
دمہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے گلے 
میں ٹشو پھیلنا شروع ہوجاتے ہ
یں۔  گلے کے ان حصوں میں پٹھے 
سخت ہوجاتے
 ہیں اور خلیات میں  کچھ چپچپا مادہ 
تیار ہونا شروع ہو جاتا ہے  
، جس سے ایئر ویز  یعنی ہوا کی نالیاں 
چھوٹی ہونا شروع ہو 
جاتی ہیں  جس سے  پھیپھڑوں میں ہوا
 کا بہاؤ مشکل ہوجاتا ہے۔
جب ایسا ہوتو  اسے  ہم دمہ کا حملہ
 کہتے ہیں۔ متاثرین اپنے پھیپھڑوں 
میں زیادہ  ہوا حاصل کرنے کی کوشش 
کرتے  ہیں ،
 بعض اوقات انہیں کھانسی آتی   ہے اور
 وہ بھاری اور زور  سے 
 سانس لیتے ہیں،  بعض اوقات دمہ کے 
شکار افراد کے 
سینے میں درد ہوتا ہے۔ اس طرح کی 
بیماری کسی شخص کی صحت
 پر گہری اثر ڈال سکتی ہے اور موت 
کا سبب بھی بن
 سکتی ہے۔
ڈاکٹرابھی تک حتمی طور پر  نہیں بتا  
 سکے کی دمہ کی وجہ
 کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 
ماحولیاتی اثرات بنیادی عوامل
 ہیں۔ تاہم ، کچھ ڈاکٹروں کا دعوی ہے
 کہ  انسانی جین دمہ کے  
ذمہ دار ہیں اور   دمہ کی تکلیف میں
 مبتلا والدین میں 
سے تقریبا  50 فیصد  بیماری بچوں میں 
منتقل ہو سکتی ہے ۔
بہت سی چیزیں دمہ کے حملوں کو متحرک
 کرسکتی ہیں ، بعض اوقات 
ایسے ذرات  جو ہوا کے ذریعے اڑتے ہیں ، 
 دھول ، 
جانوروں کے بال ،  کسی چیز کا سڑنا یا نم 
ہو جانا۔ موٹر گاڑیوں ،
 فیکٹریوں ، تمباکو نوشی ، گھریلو سپرے 
اور دیگر کیمیکلز سے
 ہوا کی آلودگی دمہ کا سبب بن سکتی ہے۔ 
سرد موسم میں ورزش کرنا 
دمہ کے دورے کا سبب بن سکتا ہے۔
بہت سے ڈاکٹر دمہ کے مریضوں کو البٹیرول 
لکھتے ہیں۔ دمہ کا شکار 
افراد اکثر ایسی مشین استعمال کرنا  پڑتی 
 ہیں جو اس 
دوائی کو دھند جیسے اسپرے میں بدل دیں
 اور  یہ مشین آپ  کے ناک
 اور منہ سے فٹ ہونے والے ماسک 
سے جڑی 
 ہوتی ہے۔ اس سے ایئر ویز یعنی ہوا 
کی نالیوں  کی سوجن کو کم 
کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کچھ چیزیں ایسی ہیں جو افراد دمہ سے 
ہونے والی تکالیف کو کم کرنے
 کے  لیے  کرسکتے ہیں مثلا  
 انہیں  معلوم ہونا چاہئے
 کہ انہیں   دوا کب اور کیسے لینی
 ہے  اور وہ کون سے عوامل ہیں
 جن سے انہیں الجی اور پھر دمہ 
کا مسلہ درپیش ہو تا ہے ۔


No comments:

Post a Comment